سحری کے بعد میاں بیوی کا ایک ساتھ سونا

سوال سوال: گذشتہ رمضان  میں میرا خاوند اپنی جنسی خواہش کے سامنے ڈھیر ہوگیا، اپنے آپ پر کنٹرول نہ کرسکا، اور ہم دونوں کا روزہ ہونے کے باوجود اس نے ہمبستری کی، اسکے بعد ماہِ رمضان کے اختتام پر ہم نے اس دن کے روزے کی قضا دی، اور اللہ تعالی سے توبہ بھی کی، لیکن ہمیں اس وقت کفارہ نامی کسی چیز کا علم نہیں تھا۔

اس سال پھر میرے خاوند کیساتھ وہی ہوا، لیکن جماع سے قبل ہی اسے انزال ہوگیا، میں نے اسے دوبارہ ایسے کرنے سے منع کیا، لیکن معاملے کی مزید تحقیق ضروری تھی، پھر میں نے ہماری مذکورہ صورت حال کے بارے میں بہت کچھ پڑھا، اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ روزوں کی قضا کیساتھ کفارہ دینا بھی لازمی ہے، اور یہ کفارہ یا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی شکل میں ہوگا، یا پھر مسلسل دو ماہ روزے رکھنے کی صورت میں۔

چنانچہ میرے درج ذیل سوالات ہیں: ہم پر کیا چیز لازم آتی ہے؟ کہ ہم اس سال رمضان گزرنے کے بعد لازمی روزے رکھیں؟ یا پھر یہاں برطانیہ میں خیراتی اداروں کو پیسے جمع کروا دیں، وہی اسے تقسیم کردیں، یا اپنے آبائی ملک میں پیسے بھیج دیں کہ وہاں غریب لوگوں کی تعداد زیادہ ہے؟ اور کیا گذشتہ سال ہم سے جو غلطی ہوئی تھی اسکا کفارہ بھی ہمیں ادا کرنا ہوگا؟ یا صرف میرا خاوند ہی کفارہ ادا کریگا، کیونکہ ابتدائی طور پر تو اُسی کی غلطی تھی، جبکہ مجھے تو اس وقت کسی قسم کا شعورہی نہیں تھا۔

نوٹ: اس سال جو کچھ ہم سے سر زد ہوا ، اسکے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد مجھے حیض آگیا تھا، اور حیض اپنے مقررہ وقت پر ہی آیا تھا، لیکن پھر بھی میں نے اگلے روز بھی سحری کی ، اور ظہر تک روزہ بھی رکھا تھا۔ تو کیا اس صورت میں مجھ پر بھی جماع کا کفارہ لازمی دینا ہوگا؟ یا میں اہل عذر میں شامل ہوچکی تھی، تو نتیجتا صرف میرے خاوند پر ہی کفارہ لازم ہوگا! اور اگر مجھ پر بھی کفارہ عائد ہوتا ہے تو کیا میری طرف سے میرا خاوند یہ کفارہ ادا کرسکتا ہے؟ مجھے امید ہے کہ اس پورے قصہ کے بارے میں ہمیں آپ نصیحتیں ارسال کرینگے، تا کہ ہم دوبارہ اس قسم کے معاملے میں ملوث نہ ہوں، اور کیا ہمارا مذکورہ کام کبیرہ گناہ ہے یا نہیں ؟ اور اس سے توبہ کیسے کی جائے گی؟ آخری سوال: ہم اکتوبر کی ابتدا سے ساٹھ روزے رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے اسکا ارادہ کر رکھا ہے، لیکن اکتوبر کے آخر میں عید الاضحی بھی آرہی ہے، تو کیا ہم عید کے بعد بھی روزے مکمل کرسکتے ہیں؟ کیونکہ ایام عید میں روزے نہیں رکھے جاسکتے، تو کیا برائے مہربانی آپ مجھے اس کا جواب دے سکتے ہیں تا کہ ہمیں بیس یا چوبیس دنوں کے روزے دوبارہ نہ رکھنے پڑیں، اور ہمیں 25 اکتوبر کو ہونے والی عید الاضحی کے بعد دوبارہ سے ساٹھ روزے شروع سے نہ رکھنے پڑیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں